3 اگست 2017 - 10:07
رہبر معظم نے عوامی آراء کو نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی کو ایران کا بارہواں صدر منصوب کردیا + تصاویر

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج جمعرات کے روز ایک خصوصی تقریب کے دوران 12ویں صدارتی انتخابات میں ایرانی عوام کے ووٹ اور منتخب نمائندے کی توثیق کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی کو بحیثیت 12ویں صدرمملکت، صدارتی حکم نامہ دے دیا۔

حسینیہ امام خمینی (رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ، مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہان ، غیر ملکی مہمانوں، غیر ملکی سفراء اور اعلی سول و فوجی حکام کی موجودگی میں ایران کے بارہویں صدر حسن روحانی کے صدارتی حکم کی توثیق کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی۔

اس تقریب کے آغاز میں ایران کے وزیر داخلہ رحمانی فضلی نے ایران کے بارہویں صدارتی انتخابات کے بارے میں رپورٹ پیش کی ۔


سپریم لیڈر کی جانب سے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کو صدارتی حکم نامہ پیش کرنے سے پہلے سپریم لیڈر آفس کے سربراہ علامہ محمدی گلپایگانی نے حکم نامے کو شرکا کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے حضرت امام رضا (ع) کے یوم ولادت با سعادت کے موقع پرایک بہترین دن کو ہماری بارہویں حکومت کے آغاز کا دن قرار دیا۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج جمعرات کے روز ایک خصوصی تقریب کے دوران 12ویں صدارتی انتخابات میں ایرانی عوام کے ووٹ اور منتخب نمائندے کی توثیق کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی کو بحیثیت 12ویں صدرمملکت، صدارتی حکم نامہ دے دیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے منتخب صدرکو مزاحمتی اقتصادی پالیسی کے منصوبوں کے نفاذ پر تاکید فرماتے ہوئے تجویزدی کہ ملک میں انصاف کی فراہمی، غریبوں کی حمایت، اسلامی شریعت کے نفاذ، عزت اور قومی اتحاد کی مضبوطی، ملک کی صلاحیت اور قابلیتوں کا بھرپور استعمال اور اسلامی انقلاب کے اصولوں پر پابندی کے حوالے سے کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کیا جائے.

ایرانی آئین کے شق نمبر 110 کے مطابق، عوام کی جانب سے صدر کے انتخاب کے بعد سپریم لیڈر کی جانب سے اس کی توثیق ہوتی ہے اوراسی دن کے بعدسے 4 سال کیلئے صدر مملکت اپنے فرائض منصبی کو شروع کرتا ہے۔

صدر مملکت حسن روحانی ایران میں 19 مئی کو بارہویں صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے تھے ۔

.......

/169